علامہ اقبال کی سازش
اگر آپ پاکستان کا کوئی پرائیویٹ ٹی وی چینل دیکھتے ہیں تو آپ زید حامد کے نام سے واقف ہوں گے۔ آج کل وہ پاکستان کو اقبال کا پاکستان بنانے میں مصروف ہیں۔
اس مقصد کے لیے انہیں فیشن ڈیزائنروں، پاپ گلوکاروں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ممی ڈیڈی بچوں کی حمایت حاصل ہے۔ کبھی وہ غزوہ ہند کے نام سے ہمیں سبز رنگ کے ایف سولہ طیارہ اور کبھی ایستادہ غزنوی میزائل دکھا کر بھارت پر آخری فتح کی بشارت دیتے ہیں اور کبھی امریکہ کو اقبال کے شعروں اور ہماری قوت ایمانی سے ڈراتے ہیں۔ (شاید اسی خوف سے کئ امریکی ملٹی نیشنل کمپنیاں انکے پروگراموں کو اشتہار بھی دیتی ہیں)۔
اپنے مشن کی تکمیل کے لیے زید حامد کو کئی روپ بھرنے پڑتے ہیں۔ کبھی وہ لال ٹوپی پہن کر وسط ایشیائی مجاہد لگتے ہیں تو کبھی سوٹ بوٹ میں عالمی بینک کے نمائندے۔ آخری دفعہ میں نے انہیں دیکھا تو انہوں نے نارنجی رنگ کی فوجی ٹوپی اور فائٹر پائلٹوں والی جیکٹ پہنی ہوئے تھے۔ مجھے لگا کہ نیٹو کا کوئی بھگوڑا فوجی ہے۔
کبھی انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ چہ گویرا نے اپنی جنس تبدیل کروانے کی کوشش کی ہے یا حافظ سعید نے کوئی ایسی گولی کھا لی ہے جو اس عمر میں انہیں نہیں کھانی چاہیے تھی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر زید حامد نہ ہوتے تو ٹی وی چینلوں کا کیا ہوتا؟ مولانا فضل الرحمان جتنی پگڑیاں بدل لیں، مولانا منور حسن جتنی بھی خوبصورت مسکراہٹیں بکھیر لیں، میوزک ویڈیو دیکھنے والی نسل کے لیے ان میں کوئی کشش نہیں۔ زید صاحب تو ہمارے میڈیا میں ایک ڈسکو مولوی کے خلا کو پر کر رہے ہیں۔
ویسے راقم کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ اس پاکستان کو اقبال کا اور کتنا پاکستان بنائیں گے۔ ہمیں پتہ نہیں اقبال کے خواب میں پاکستان کے خدوخال کیسے تھے لیکن ہمارے ارد گرد ان کی جن تعلیمات نے فروغ پایا ہے وہ تو علامہ نے کسی برے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ ہم اپنے ہر بچے کو سکول میں پڑھاتے ہیں تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔ تو ہمارے کئی بچے یہ سبق دہراتے دہراتے پہاڑوں پر جا بیٹھے ہیں اور کبھی کبھی اپنا خون گرم رکھنے کے لیے مسجدوں، بازاروں اور سکولوں کو بموں سے اڑاتے رہتے ہیں۔ انہیں منع کرتے ہوئے بھی ہم شرماتے ہیں کیونکہ ہم نے ہی تو انہیں پڑھایا تھا کہ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن۔
لیکن اس سارے قتل و غارت کی سول سوسائٹی ہمیشہ مذمت کرتی ہے۔ لیکن یہ سول سوسائٹی اس دہائی کی سب سے بڑی سازش ہے۔








